اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ریفرنسز کے فیصلوں پر اپیلوں کو جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست نمٹاتے ہوئے رجسٹرار آفس کو کورونا پالیسی کے مطابق اپیلیں مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نیب کی جانب سے متفرق درخواستوں میں العزیزیہ، فلیگ شپ اور ایون فیلڈ ریفرنسز پر جلد سماعت کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
منگل کو جسٹس عامر فاروق نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو کورونا کے دوران ہائی کورٹ کی پالیسی کے مطابق اپیلیں مقرر کرنے کی ہدایت کی۔
کہ العزیزیہ ریفرنس، فلیگ شپ ریفرنس اور ایون فیلڈ ریفرنس اپیلیں جلد سماعت کے لیے مقرر کی جائیں۔ '9 دسمبر 2020 کو ہائیکورٹ نے نواز شریف کی اپیلوں پر آخری سماعت کی تھی جس کے بعد سے یہ مقرر نہیں ہوئیں۔ سپریم کورٹ نے بھی کیسز کو جلد نمٹانے سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں۔'
نیب نے درخواست میں کہا کہ '2 دسمبر کو نواز شریف کو تینوں مقدمات میں اشتہاری قرار دیا گیا، نیب نے تینوں اپیلوں میں اپنا جواب تیار کیا ہے اور اس پر دلائل دینے کے لیے تیار ہے، نیب پراسیکیوٹر عدالت کو یقین دہانی کراتا ہے کہ وہ ہر سماعت پر کیس کی پیروی کے لیے موجود ہوگا۔'
نیب نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کرپشن کیسز روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کی ہدایت جاری کر چکی ہے۔
عدالت نے نیب کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے کورونا پالیسی کے مطابق اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر سے بچاؤ کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے احکامات کے مطابق 16 مئی تک معمول کے کیسز کی سماعت نہیں کی جائے گی۔
رجسٹرار آفس کے مطابق 16 مئی تک صرف اہم نوعیت کے کیسز کی سماعت ہوگی جس میں ضمانت، حکم امتناع اور حقیقی ہنگامی نوعیت کے کیسز پر سماعت ہوگی جبکہ اہم مقدمات چیف جسٹس اطہر من اللہ کی منظوری سے سماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے۔
0 تبصرے